ایران کا عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی سے تعاون ختم کرنے کا اعلان

0
52
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

تہران (21 ستمبر 2025): ایران نے یورپی ممالک کی جانب سے نئی پابندیوں کے ردعمل میں عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے اقدام کے بعد ایران اور ایٹمی نگران ادارے کے درمیان تعاون معطل ہو جائے گا۔

ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ یورپی طاقتوں کا یہ فیصلہ ان مہینوں کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے جو ایٹمی تنصیبات کی نگرانی کی بحالی اور عالمی قوانین کی پاسداری کے لیے کی گئی تھیں۔ وزارتِ خارجہ کے تعاون بڑھانے اور متبادل منصوبے پیش کرنے کے باوجود یورپی ممالک کے اقدامات نے تعاون کا راستہ بند کر دیا ہے۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب سلامتی کونسل نے جمعے کے روز ان پابندیوں کو بحال کرنے کے حق میں ووٹ دیا جو کئی برس سے معطل تھیں۔ یورپی ممالک نے جوہری معاہدے کے "اسنیپ بیک میکانزم” کو فعال کرتے ہوئے ایران پر عدم تعمیل کا الزام لگایا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں وہ تمام پابندیاں جو 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ہٹائی گئی تھیں، 28 ستمبر سے دوبارہ نافذ ہو جائیں گی اور ایران کے سلامتی کونسل کو قائل نہ کرنے تک برقرار رہیں گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایران اور IAEA کے درمیان قاہرہ میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت جوہری تنصیبات کے معائنے بحال ہونا تھے، تاہم جون میں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد ایران نے معائنے معطل کر دیے تھے۔ مغربی طاقتیں طویل عرصے سے ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگاتی رہی ہیں، تاہم تہران ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا آیا ہے۔