مائیکرو پلاسٹکس اور نینو پلاسٹکس (MNPs) کو خوراک، پودوں اور انسانی جسم میں درست طور پر ناپنا انتہائی مشکل ہے، جس کی وجہ سے یہ سمجھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ ہماری صحت پر کیسے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ تاہم یونیورسٹی آف میساچوسٹس، ایمہرسٹ کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے ایسے طریقے وضع کیے ہیں جو انسانی صحت اور ماحول پر ان ذرات کے خطرات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
کیا ہو رہا ہے؟
مائیکرو اور نینو پلاسٹکس وہ ننھے ذرات ہیں جو روزمرہ اشیاء جیسے پیکجنگ، کپڑوں اور بوتلوں سے الگ ہو کر بنتے ہیں۔ یہ ذرات تقریباً انسانی جسم کے ہر عضو اور ٹشو میں پائے گئے ہیں۔ سائنسدانوں کو ان کی موجودگی ناپنے میں مشکل پیش آتی ہے کیونکہ اب تک کے آلات زیادہ تر پانی کے نمونوں کے لیے بنائے گئے تھے، نہ کہ جانداروں کے لیے۔
یو ایم ایس کی ٹیم نے ایک نئی تحقیق (جو جریدہ نیچر میں شائع ہوئی) میں بہترین طریقہ کار تجویز کیا ہے۔ اس کے ذریعے مختلف حیاتیاتی نمونوں میں MNPs کو شناخت اور درجہ بندی کیا جا سکے گا۔
ٹیم کے سربراہ باؤشان زِنگ نے کہا:
"ہر حیاتیاتی نمونہ ایک الگ ساخت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سیب ریشے دار مادے پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ انسانی جسم میں یہ ذرات چکنائی یا پروٹین میں پیوست ہو سکتے ہیں۔ شیل فِش میں یہ خول کے ساتھ ملے ہوں گے، اور پودوں یا درختوں میں یہ لکڑی جیسے مادے کے ساتھ موجود ہوں گے۔”
کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
یونیورسٹی کی ٹیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک عالمی معیار بنایا جائے تاکہ دنیا بھر کے سائنسدان ایک ہی طریقے سے مائیکرو پلاسٹکس کو شناخت، ناپ اور موازنہ کر سکیں۔
اس میں یہ شامل ہوگا کہ کس طرح ان ذرات کو مختلف حیاتیاتی مادوں سے الگ کیا جائے، اور پھر ان کے پولیمر کی قسم، شکل اور سطحی خصوصیات کا مطالعہ کیا جائے۔
چونکہ ان ذرات کی شکل، سائز اور سطحی ساخت بے شمار قسم کی ہو سکتی ہے، اس لیے محققین نے مشورہ دیا ہے کہ ان کے تجزیے کے لیے متعدد مشین لرننگ الگورتھمز استعمال کیے جائیں۔































