نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے کو بھاری قیمت چکانی ہوگی، امریکی صدر

0
56
pakalerts.pk
pakalerts.pk

ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے بائیڈن دور میں افغانستان سے آنے والے ہر شخص کی دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم دیدیا، افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں غیرمعینہ مدت کیلئے روک دی گئیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کو دہشت گردی قرار دے دیا۔ واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے ایک بیان میں انہوں نے بائیڈن دور میں افغانستان سے امریکہ میں داخل ہونے والے ہر شخص کی دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم دیدیا اور فائرنگ کرنے والے شخص کو جانور قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے کو بھاری قیمت چکانی ہوگی۔بتایا گیا ہے کہ افغان شہری کے واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں کو گولی مارنے کے واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے افغان شہریوں کی امیگریشن کی تمام درخواستیں فوری طور پر روک دی ہیں، اس ضمن میں امریکی سیٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس نے بتایا کہ افغان شہریوں کے لیے امیگریشن کی تمام درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہیں، افغان شہریوں کے لیے امیگریشن کی درخواستوں کی سکیورٹی اور جانچ پروٹوکول کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب ایک شخص نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کردی جس میں 2 اہلکار شدید زخمی ہوئے، فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی جنہوں نے فائرنگ کرنے والے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا اور فائرنگ سے زخمی ہونے والے دونوں اہلکاروں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا جن کی حالت تشویشناک ہے۔پولیس حکام نے بتایا کہ مشتبہ شخص کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے نام سے ہوئی، رحمان اللہ 2021ء میں امریکہ آیا تھا جب کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کردیا گیا، سکیورٹی حکام نے جائے وقوعہ کے اطراف کے علاقے کو بھی گھیرے میں لے لیا، پولیس نے شہریوں کو آئی سٹریٹ کے قریب جانے سے گریز کی ہدایت کردی، امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری نے کہا کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔