اسلام آباد (18 ستمبر 2025): پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو ایک اہم اور تاریخی سنگ میل قرار دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان نے "معرکہ حق” کے بعد دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور بھارت عالمی برادری کو چیلنج کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں ہونے والی بہتری بھارت کو برداشت نہیں ہوتی۔
شیری رحمان نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مسائل پر توجہ دے اور اپنے دفاع کو دیکھے، کیونکہ پاکستان کی جانب سے آپریشن بُنیان مرصوص کے ذریعے بھرپور جواب دیا جا چکا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے حملے بدستور جاری ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ بڑا دفاعی معاہدہ وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کے ساتھ طے کیا۔ معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی کو مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق معاہدے کا مقصد کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو یقینی بنانا ہے، اور کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور دیگر وزرا بھی شریک تھے۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور دفاعی تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جبکہ سعودی ولی عہد نے پاکستان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔




























