گردشی قرضہ 1.6 کھرب تک پہنچ گیا، سی پی پی اے کا انکشاف

0
119
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے مطابق ملک میں بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 30 جون 2025 تک 1.6 کھرب روپے ہو چکا ہے۔ یہ بات ایک سماعت کے دوران بتائی گئی، جس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس رقم میں وصولیوں میں کمی اور ترسیلی نقصانات سے پیدا ہونے والے مالی اثرات شامل نہیں کیے گئے۔

یہ تفصیلات اس وقت سامنے آئیں جب ایک دن قبل ہی کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو پاور ڈویژن نے بتایا تھا کہ گردشی قرضہ 780 ارب روپے تک محدود ہے۔ تاہم نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار کے استفسار پر سی پی پی اے کے چیف ایگزیکٹو ریحان اختر نے وضاحت دی کہ اصل رقم اس سے دوگنا ہے اور 1.6 کھرب کا تخمینہ اضافی مالی نقصانات کے بغیر ہے۔

چیئرمین نیپرا نے ہدایت جاری کی کہ آئندہ ہفتے ہونے والی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) کی عوامی سماعت سے پہلے مکمل معلومات مہیا کی جائیں۔ یہ سماعت نیپرا کے اراکین آمنہ احمد اور مقصود انور خان نے ذاتی طور پر جبکہ چیئرمین اور ممبر ٹیکنیکل نے زوم کے ذریعے شرکت کرتے ہوئے مکمل کی۔

سی پی پی اے کے سی ای او نے جون 2025 کی بجلی پیداوار کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ فی یونٹ 65 پیسے منفی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی درخواست دی گئی ہے۔ اس وقت ایف سی اے 50 پیسے ہے، جس کے باعث ملک میں بجلی کی قیمت میں 15 پیسے فی یونٹ کمی متوقع ہے، تاہم یہ کمی کے-الیکٹرک کے صارفین پر لاگو نہیں ہوگی، کیونکہ کابینہ ڈویژن نے اس بارے میں نیپرا کو کوئی ہدایت نہیں دی۔ دوسری جانب، کے-الیکٹرک نے مئی 2025 کے لیے 4.75 روپے فی یونٹ ایف سی اے کی درخواست دی ہوئی ہے، جس پر تاحال فیصلہ نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ حکومت بجلی کے صارفین سے گردشی قرضے کی مد میں ساڑھے تین روپے فی یونٹ وصول کر رہی ہے، جو رواں سال بڑھ کر سات روپے کے قریب ہو چکی ہے۔ صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے 7.5 روپے فی یونٹ رعایت کا اعلان کیا تھا، لیکن نیپرا نے صرف 2.5 روپے کی رعایت دی۔ صنعتی نمائندوں نے بیگاس سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اب تقریباً کوئلے کے نرخوں کے برابر ہو چکی ہے، جو ممکنہ اسکینڈل کا اشارہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ کھاد کی سبسڈی ختم کر کے آر ایل این جی کی قیمتوں میں کمی لائے تاکہ بجلی کے نرخ بھی کم کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی صارفین نے بجلی کے بلوں پر جولائی سے کوئی ڈیوٹی نہ لگانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرنس آئل کو بجلی کی پیداوار کے عمل سے باہر نکالا جائے کیونکہ اس پر 82,000 روپے فی ٹن لیوی عائد ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پیٹرولیم لیوی میں 10 روپے فی لیٹر اضافے کی بنیاد پر 1.71 روپے فی یونٹ بجلی سستی کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ رعایت پورے سال جاری رہنی چاہیے تھی، لیکن تاحال اس کے کوئی اثرات نظر نہیں آئے۔ گیس پر لگائی گئی لیویز کا مقصد بھی بجلی سستی کرنا تھا، مگر وہ فائدہ عوام تک نہیں پہنچ سکا۔ انہوں نے بتایا کہ سولر انرجی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے گرڈ پر بجلی کی مانگ کم ہو رہی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں نقصان زیادہ ہوتے ہیں۔ سولر ٹیکنالوجی محصولات کی وصولی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

آخر میں صنعتی شعبے نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اصل مسائل حل کرنے کے بجائے ہمیشہ اضافی بوجھ صارفین پر ڈال دیتی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان دنیا کے مہنگی ترین بجلی، گیس اور ایندھن رکھنے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

سورس اردو پوائنٹ