ایک ہفتے کے دوران ملکی زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس پر ماہرین معیشت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق صرف سات دن میں ملکی ذخائر میں 15 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی کمی دیکھی گئی ہے۔
مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق بیرونی ادائیگیوں کے باعث ملکی سرکاری ذخائر 15 کروڑ 30 لاکھ ڈالر گھٹ کر 14 ارب 30 کروڑ 39 لاکھ ڈالر پر آگئے ہیں۔ اس کے علاوہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 5 ارب 30 کروڑ 31 لاکھ ڈالر پر برقرار ہیں۔ یوں مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 19 ارب 60 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سطح تک محدود ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف، کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ ترسیلات زر کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات، عالمی مارکیٹ میں پاکستانی بانڈز کی بہتر پوزیشن اور بین الاقوامی اداروں سے کم لاگت پر قرض حاصل کرنے کی توقعات نے ڈالر پر دباؤ بڑھایا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کی جانب سے جولائی 2026 تک ذخائر میں تین ارب ڈالر اضافے کی پیش گوئی بھی مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ کر رہی ہے۔
انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز ڈالر 28 پیسے سستا ہو کر 282 روپے 67 پیسے کی سطح تک آ گیا، تاہم درآمدی طلب میں اضافے کے باعث کاروبار کے اختتام پر یہ کمی برقرار نہ رہ سکی۔ دن کے اختتام پر ڈالر 8 پیسے کی کمی کے ساتھ 282 روپے 87 پیسے پر بند ہوا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 285 روپے 50 پیسے رہی۔
ادھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بلیک مارکیٹ، حوالہ ہنڈی، اور غیرقانونی فارن کرنسی لین دین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن نے بھی زرمبادلہ مارکیٹوں پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس سے مارکیٹ میں استحکام لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
سورس اردو پوائنٹ




























