اقوام متحدہ میں پاکستان کا دو ٹوک مؤقف، سرفراز احمد گوہر نے بھارت کو آئینہ دکھا دیا

0
98
pakalerts
pakalerts

جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں، ایک متنازع علاقہ ہے: پاکستانی فرسٹ سیکرٹری کا دو ٹوک مؤقف

نیویارک (7 اکتوبر 2025) — اقوام متحدہ میں پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری سرفراز احمد گوہر نے بھارت کے جھوٹے بیانیے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا "اٹوٹ انگ” نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔

اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب میں سرفراز احمد گوہر نے بھارت کی جانب سے کیے جانے والے بے بنیاد دعوؤں کا کرارا جواب دیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی ریاستی دہشت گردی، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لے رہا ہے۔

پاکستانی سفارتکار نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، جہاں اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے (ریفرنڈم) کا وعدہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے خود ان قراردادوں کو تسلیم کیا تھا، اس لیے وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 کے تحت ان پر عملدرآمد کا پابند ہے۔

سرفراز احمد گوہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیری خواتین دہائیوں سے بھارتی افواج کے ہاتھوں ظلم و ستم کا شکار ہیں، جن میں جنسی تشدد، ہراسانی، غیر قانونی گرفتاریاں اور اجتماعی سزائیں شامل ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو اس کے بین الاقوامی وعدوں اور قانونی ذمہ داریوں کا پابند بنائے اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

پاکستانی نمائندے کے اس مؤقف کو اقوام متحدہ میں موجود متعدد مندوبین نے خطے میں امن و انصاف کی بحالی کے لیے ایک اہم اور حقیقت پر مبنی موقف قرار دیا۔