سیلاب کا خطرہ؛ ملتان سے 3 لاکھ افراد کی نقل مکانی، بلوچستان میں بھی ریلہ داخل ہونے کا خدشہ

0
107
Pakalerts.pk
Pakalerts.pk

ملتان (30 اگست 2025ء): سیلاب کے خطرے کے باعث ملتان سے تین لاکھ سے زائد افراد محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں جبکہ بلوچستان میں بھی سیلابی ریلہ داخل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دریائی اور نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شام تک سیلاب کا بڑا ریلہ ملتان کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے، جس پر شہری بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔ متاثرین کی جانب سے انتظامیہ پر کشتیوں کی کمی اور مویشیوں کی منتقلی کے ناقص انتظامات پر شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

جلال پور پیر والا کے قریب دریائے ستلج میں 50 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے 140 دیہات متاثر ہوئے۔ راجن پور میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے، جبکہ بہاولپور میں دریائے ستلج کے کناروں پر موجود بستیوں کے رہائشی بھی محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔ فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں بھی سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

دریائے چناب کے سیلابی ریلے سے وزیر آباد اور حافظ آباد متاثر ہوئے، جہاں 40 دیہات اب بھی زیرِ آب ہیں۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور تلوار پوسٹ کے قریب دیہات خالی کرانے کے لیے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا اخراج 3 لاکھ 3 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جو غیر معمولی اونچا ہے۔

مزید یہ کہ دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر آمد و اخراج ایک لاکھ 38 ہزار 58 کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ ہیڈ اسلام پر پانی کی آمد 63 ہزار 263 اور اخراج 62 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

وہاڑی کی ضلعی انتظامیہ نے 133 بستیوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع بھر میں سیلاب سے مجموعی طور پر 49 ہزار 573 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 30 ہزار 380 ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔