واشنگٹن (30 اگست 2025ء): امریکی اپیل کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے بیشتر عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا، جس پر صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ تمام ٹیرف بدستور مؤثر ہیں اور وہ انہیں ختم نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپیل کورٹ نے غلط طور پر کہا ہے کہ ہمارے ٹیرف کو ختم ہونا چاہیے، مگر بالآخر جیت امریکہ کی ہی ہوگی۔ اگر یہ ٹیرف برقرار نہ رہے تو یہ ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے اور ہمیں مالی طور پر کمزور کر دیں گے۔ تاہم، یہ ٹیرف تجارتی خسارے اور غیر منصفانہ غیر ملکی رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ اب بڑے تجارتی خسارے اور غیر منصفانہ ٹیرفس برداشت نہیں کرے گا، خواہ یہ اقدامات دوست ممالک کریں یا دشمن، کیونکہ یہ ہماری صنعت، کسانوں اور دیگر شعبوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ معاملہ بالآخر سپریم کورٹ میں طے پائے گا، اور عدالت عظمیٰ کی مدد سے امریکہ اپنے مفاد میں ان ٹیرف کو برقرار رکھے گا تاکہ ملک دوبارہ طاقتور اور خوشحال بن سکے۔
ادھر اپیل کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرنے میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ عدالت کے مطابق اگرچہ صدر کو ہنگامی حالات میں وسیع اختیارات حاصل ہیں، لیکن ان اختیارات میں ٹیرف لگانے کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں۔




























