سیالکوٹ (26 اگست 2025): سیالکوٹ میں موسلا دھار بارش نے تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ صرف بارہ گھنٹوں میں 405 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس نے شہر کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔
شہر کی صورتحال
شدید بارش کے باعث مرکزی شاہراہیں، گلیاں اور بازار زیرِ آب آ گئے۔ ہزاروں شہری گھروں میں محصور ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق واپڈا کے متعدد فیڈرز ٹرپ کرنے سے کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔
سیوریج کے ناقص نظام نے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھا دیں، نکاسی آب نہ ہونے کے باعث گھروں میں پانی داخل ہو گیا۔
تاریخی ریکارڈ
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ بارش 1976 کے بعد سب سے زیادہ ہے، جب 339.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس بار ہونے والی بارش کو سیالکوٹ کی تاریخ کی شدید ترین بارش قرار دیا جا رہا ہے۔
گجرات اور اطراف کو خطرہ
ہیڈ مرالہ بیراج پر پانی کی سطح 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ بیراج کی گنجائش 11 لاکھ کیوسک ہے۔ حکام نے قریبی دیہات کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور متاثرہ آبادیوں کے ممکنہ انخلاء پر غور شروع کر دیا ہے۔
نالوں میں طغیانی
بھمبر نالہ میں بھی شدید طغیانی کے باعث کھاریاں اور گردونواح کے دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے گلیانہ، دو دو برسالا، گجر کوٹلہ، میانہ چک اور پنجن کساں کے رہائشیوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
مستقبل کی وارننگ
ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں نے مؤثر نکاسی آب اور جدید فلڈ مینجمنٹ سسٹم کی ضرورت کو مزید واضح کر دیا ہے۔ مزید بارشوں کے خدشے کے باعث شہریوں کو محتاط رہنے اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔




























