ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے پنجاب میں عوام دشمن بلدیاتی قانون لے آئے

0
22
pakalerts.pk
pakalerts.pk

سندھ پر 17برس سے قابض پارٹی شہر کو آگ بجھانے والا سسٹم تک نہیں دے سکی، پنجاب کے اضلاع میں احتجاج روکنے کیلئے ریڈزون کے قیام کا بل غیر جمہوری تماشہ ہے۔ حافظ نعیم الرحمان

امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے غزہ فوج بھیجنے کے فیصلہ کی کھل کر مخالفت کریں، ٹرمپ سے امیدیں وابستہ اور اس کی تابعداری طاغوت کی پرستش کے مترادف ہے، وزیراعظم نے دنیا کا امن تباہ کرنے والے امریکی صدر کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرکے قوم کے وقار کو مجروح کیا۔

منصورہ میں جمعرات کو مرکزی تربیت گاہ کے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے پنجاب اسمبلی میں پیش کیے جانے والے اضلاع میں ریڈزون کے قیام کے بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک اور غیر جمہوری تماشہ قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ فارم سنتالیس کی پیداوار اور زبردستی مسلط ہونے والے حکمران ہوتے کون ہیں کہ عوام سے حق احتجاج چھینیں؟ انہوں نے کہا کہ بل میں ڈپٹی کمشنرز کے زیرنگرانی انٹیلی جنس کمیٹی کو احتجاج کی اجازت کا فیصلہ دینے کے اختیارات کی تجویز دی گئی ہے، کیا عوام کے منتخب نمائندے ڈپٹی کمشنر سے احتجاج کی اجازت طلب کریں گے؟ انگریز کی تیار کردہ افسرشاہی کا نظام سات دہائیوں سے ملک پر مسلط ہے، سیاسی پارٹیوں میں خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہے، ملک میں گورننس کا بدترین نظام ہے، جماعت اسلامی پرامن عوامی مزاحمت سے نظام بدلنے کی جدوجہد کررہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر چترال لوئر وجیہ الدین ، امیر چترال اپر اسد الرحمن ، امیر مری 

غلام احمد عباسی ، سیکرٹری جنرل ایبٹ آباد ہمایوں خان اور ناظم تربیت گاہ حافظ سیف الرحمن بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بڑے شہروں میں بااختیار بلدیاتی نظام ہی مسائل کا حل ہے۔ ایم کیو ایم نے کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کا نیا شوشہ چھوڑا ہے، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سے کراچی کے عوام شدید بیزار ہیں، یہ دونوں پارٹیان عوام کے ووٹ سے کبھی اقتدار میں نہیں آئیں گی،  مقتدرہ نے ان کو زبردستی مسلط کیا۔

سترہ سال سے سندھ پر قابض پیپلز پارٹی اتنی نالائق ہے کہ کراچی کو آگ بجھانے والا سسٹم تک نہیں دے سکی۔ ایک خاندان اور چند وڈیرے پی پی کو چلا رہے ہیں، تباہی مچانے کے باوجود بلاول کو ونڈر بوائے (Wonder Boy) کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، ن لیگ کو بھی ایک خاندان چلا رہا ہے، سیاسی پارٹیوں میں ایک نسل کے بعد دوسری کو حکمرانی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے پنجاب میں عوام دشمن بلدیاتی نظام لے آئے۔ پنجاب کا موازنہ سندھ سے کیا جارہا ہے جو پہلے ہی کھنڈر بن چکا ہے۔ پنجاب کا موازنہ اس کو دستیاب فنڈز سے ہوگا، صوبہ میں گزشتہ پندرہ برس کے فنڈر کا حساب دیا جائے۔ ناموں سے پُل بنانا اور ٹھیلے لگانا ترقی کی علامت نہیں ، عوام کا خون نچوڑ کر ٹیکس اکٹھا کرنے والے حکمران ذاتی تشہیر میں مصروف ہیں، آئی پی پیز کو ایک سال میں بائیس سو ارب دے دیے گئے، آئی پی پی مافیا ہر پارٹی میں موجود تھا، پنجاب میں کسان سے گندم دو ہزار من میں خریدی گئی اب آٹا چھ ہزار من فروخت ہورہا ہے، وزیراعلیٰ بتائیں بارہ کروڑ عوام کا استحصال کیوں ہورہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کا حکمران طبقہ ایک ہی طرح کا ہے اور لوٹ مار میں شراکت دار ہے۔

انہوں نے مقتدرہ سے سوال کیا کہ لوٹ مار کرنے والوں کو عوام پر کیوں مسلط کیا جاتا ہے؟ 

امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ پنجاب میں غیر جمہوری بلدیاتی نظام کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، کراچی میں عوام کا مینڈیٹ واپس لیں گے، شہر قائد میں یکم فروری کو ملین مارچ ہوگا۔ 

حافظ نعیم الرحمن  نے کہا کہ وادی تیراہ میں برف باری کے باوجود گھروں کو خالی کرانے کا معاہدہ کیوں کیا گیا؟ وفاقی و صوبائی حکومت معاہدہ میں شامل تھی، اب وادی کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن اپنے تئیں لوگوں کی بھرپور مدد کررہی ہے، فیصلہ کرنے والے ایسے اقدام اٹھانے سے قبل عوام کی مشکلات کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے؟ باربار کہہ رہے ہیں فوجی آپریشن سے مسائل حل نہیں ہوں گے، پاکستان کے حکمران عوام کے اعتماد کے بغیر فیصلے کریں گے تو مسائل میں مزید اضافہ ہوگا، افغانستان سے بات کی جائے، افغان سرزمین بھی کسی صورت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امریکی جنگ میں شمولیت کے نتائج قوم پچیس سال سے بھگت رہی ہے ، مشرف کے فیصلوں کو آنے والوں نے پچھلوں پر ڈال دیا ، موجودہ مسلط حکمران چلے جائیں گے تو قوم مزید نتائج بھگتے گی اور ملبہ جانے والوں پر ڈال دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کو غزہ فوج بھیجنے کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں ، جے یو آئی کا اس حوالے سے موقف بھی قابل ستائش ہے، باقی سیاسی پارٹیاں بھی کھل کر سامنے آئیں۔

امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ملک میں منظم طریقے سے منشیات کا دھندہ چل رہا ہے، غریب نوجوانوں کی تعلیم تک دسترس نہیں، ملک میں  چوالیس فیصد آبادی خط غربت سے نیچے ہے، 

حکمران طبقہ عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے ،اس نظام کو بدلنا ہوگا، جماعت اسلامی مفاد پرست مسلط ٹولہ کو ہٹانے ،دین کے نفاذ کی جدوجہد کررہی ہے، دین کو سیاست سے الگ کرکے دیکھنا تصور دین کو سمجھنے میں غلطی ہے، نظام بدلنے کی جدوجہد کے خواہاں ہر فرد کے لیے جماعت اسلامی کے دروازے کھلے ہیں۔ جماعت اسلامی آنے والے دنوں میں پچاس ہزار عوامی کمیٹیاں اور پچاس لاکھ ممبرز بنانے کا ہدف مکمل کرے گی۔