ملک کا تجارتی خسارہ انتہائی تشویشناک 35 فیصد اضافے سے 19ارب ڈالر سے تجاوز کرگی
پاکستان کے اڑان بھرنے کے دعووں کی قلعی کھل گئی، ملک کا تجارتی خسارہ انتہائی تشویشناک 35 فیصد اضافے سے 19ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے تجارتی توازن سے متعلق تشویش ناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔پاکستان نے 6ماہ میں دیگر ممالک سے ساڑھے 34 ارب ڈالر کا سامان خریدا جبکہ اس دوران صرف 15ارب ڈالر کی پاکستانی مصنوعات باہرفروخت کی گئیں،6ماہ میں تجارتی خسارہ 35.52فیصد اضافے سے 19ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔رپورٹ کے مطابق جولائی تا دسمبر 4ارب 63 کروڑ ڈالر کی صرف خوراک امپورٹ کی گئی، پچھلے سال کے مقابلے کھانے پینے کی اشیا کی درآمدات میں 21.71فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چینی، دودھ، مکھن، کریم، خشک میوے، چائے، مصالحے، سویا، پام آئل شامل ہے۔
پاکستانی 6ماہ میں تقریبا 90ارب روپے کی درآمدی چائے پی گئے۔زیرجائزہ عرصے کے دوران لگ بھگ ایک ارب ڈالر کے اسمارٹ موبائل فون امپورٹ کیے گئے، درآمدی اسمارٹ فونزکی مقامی کرنسی میں مالیت 271ارب روپے ہے۔صرف دسمبر میں 16 کروڑ ڈالر یعنی 45 ارب روپیکیفون امپورٹ ہوئے،35کروڑ ڈالر یعنی 100ارب روپے کا موبائل سے متعلق سامان بھی درآمد کیے گئے۔ دستاویز کے مطابق ٹیکسٹائل سمیت مشینری کی درآمد 16فیصد اضافے سے 5ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، امپورٹڈ گاڑیوں سمیت تقریبا 2 ارب ڈالر کا ٹرانسپورٹ کا سامان بھی درآمد ہوا، کاریں، بسیں، ٹرک، پرزہ جات، جہازاورکشتیاں شامل ہیں، 60کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی ربڑمصنوعات، ٹائر، لکڑی اور پیپر بورڈ درآمد کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق 6ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 8ارب ڈالر تک پہنچ گیا، کھاد، کیڑے مارادویات، کیمیکلز سمیت 5.37ارب ڈالر کا زرعی سامان درآمد کیا گیا، سونے، لوہے، اسٹیل، ایلومینیم سمیت 3.23ارب ڈالر کی دھاتیں بھی امپورٹ کی گئی۔ خام کپاس، سنتھیٹک فائبر، سلک دھاگے سمیت 3.37ارب ڈالر کا ٹیکسٹائل سامان امپورٹ کیا گیا۔




























