اسلام آباد (19 ستمبر 2025): بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ نئی دہلی کے لیے سخت تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور اب یہ نیا دفاعی معاہدہ اس رشتے کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف خطے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے اہم سنگ میل ہے۔
سابق سفیر نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے قطر پر حملے نے عرب دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اسی پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب نے ایک دوسرے کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
گزشتہ روز بھارت نے اس دفاعی معاہدے پر محتاط ردعمل ظاہر کیا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی اس پیشرفت کو بغور دیکھ رہا ہے اور بھارتی حکومت اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اس اہم دفاعی معاہدے پر وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور ہوگا اور دونوں ممالک مشترکہ طور پر دفاعی ردعمل دیں گے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ معاہدے کا مقصد خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو یقینی بنانا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور دیگر اہم وزرا بھی شریک تھے۔ اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
سعودی ولی عہد نے پاکستان کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

































